نیوز کوڈ: ۵۰۵۵
تاریخ خبر: 20 June 2010 - 23:31
printپرنٹ
sendSend to friend
خبررساں ایجنسی شبستان
سلامتی کونسل کی قرارداد کا ایران کی صحت پرکوئی اثر نہیں پڑے گا۔
سماجی:اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ انسانی حقوق، دہشت گردی، نائن الیون، ایٹم بم اوران جیسے دیگر موضوعات بڑی طاقتوں کے سیاسی کھیل ہیں ۔
خبررساں ایجنسی شبستان کے مطابق صدرجناب احمدی نژاد نے آج عالم اسلام کے پبلیکیشنز کی بائیسویں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ، دنیا کی آنکھوں کے سامنے دن دہاڑے بین الاقوامی امن قافلے پردہشت گردانہ حملہ ہوتا ہے جس کی پوری دنیا مذمت کرتی ہے لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل خاموش تماشائی بنی رہتی ہے ۔ انھوں نے کہا سلامتی کونسل کا رویہ تفریق آمیز ہے ۔صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ صہیونی حکومت کے اتنے بڑے دہشت گردانہ اقدام پرسلامتی کونسل میں بولنے کی جرائت نہيں ہوئی اورایران، انڈونیشیاء، ترکی، مصر، شام اوراردن جیسے ممالک اگرآزادانہ طورپرکوئي فیصلہ کرنا چاہیں توسلامتی کونسل ان پردباؤ ڈالتی ہے ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرنے کہا کہ انصاف کا مطلب تو یہی ہے کہ اس کائنات میں سب کواپنی صلاحیتوں کے اظہار کا برابرکا موقع ملے اورکوئي بھی کسی طرح کی تفریق آمیز پالیسیوں کی وجہ سے محروم نہ ہوسکے ۔ انھوں نے کہا کہ آج شیطانی طاقتوں کی پوری کوشش ہے کہ اقوام عالم کواس بات کی اجازت نہ دی جائے کہ وہ اپنی صلاحیتیں اجاگر کریں ۔

انھوں نے کہاکہ انسان دشمن استبدادی نظام کا دور ختم ہوا چاہتا ہے اوراب یہ نظام اپنی حیات کے آخری سانس لے رہاہے ۔صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے ایک بار پھر سلامتی کونسل کے غیرمنصفانہ اورغیرقانونی اقدامات کی مذمت کی ۔ اورکہا کہ اس طرح کی قراردادوں کی کوئي اہمیت نہيں ہے ۔ ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہيں جب کہ وہ اس بات سے غافل ہیں یا جانتے ہوئے خود کوغافل ظاہر کررہے ہيں کہ اسلامی جمہوریہ ایران آج ان کی اس طرح کی پابندیوں کے قید وبند سے کہيں دور نکل چکا ہے ۔
یورپی کمپنیوں نے اپنے آقاؤں کے کہنے پربڑے ہی حسرت ومجبوری کے عالم میں نہ چاہتے ہوئے بھی ایران کے تیل وگیس کے میدانوں سے اپنی سرمایہ کاری کوخیرباد کہا تھا اور پھر انہوں نے دیکھ لیا کہ ان کی جگہ فوری طور پر چینی اورایرانی کمپنیوں نے لے لی ہے ۔ امریکہ کی طرف سے پیش کردہ ایران مخالف قرارداد پر برزیل و ترکی نے مخالفت کی اوراس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا جبکہ لبنان نے بھی اس قرارداد کی سخت مخالفت کی اوررائے شماری میں حصہ نہيں لیا ۔ امریکی حکام کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سلامتی کونسل کی گذشتہ تین قراردادوں کی طرح یہ چوتھی قرارداد بھی ناکام ہوگی۔ اس کے علاوہ بریسلز بیان نے بھی ثابت کردیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد کا ایران کی صحت پرکوئي اثر پڑنے والا نہيں ہے کیونکہ امریکہ نے اس عالمی ادارے کوجس قدر اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا ہے اسی اعتبار سے اقوام متحدہ اوراس کی سلامتی کونسل کی ساکھ بھی دنیا والوں کی نگاہوں میں خراب ہوئی ہے اورسلامتی کونسل کی اسی بگڑی ہوئی ساکھ کودیکھ کر ہی امریکہ کو اس بات کا یقین ہے کہ قرارداد انیس سو انتیس کا ایران پرکوئي اثرنہيں ہوگا ۔ یہ وہی چیزہے جس کی طرف آج ایک بارپھر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرنے اشارہ کیا ہے اورکہا ہے کہ سلامتی کونسل کا رویہ تفریق آمیزہے اس کے ڈھانچے میں تبدیلی آنی چاہئے ۔یہ وہ مطالبہ ہے جوایران اوردنیا کے سبھی آزاد وخود مختار ممالک کی طرف سے کیا جارہا ہے اورجب تک سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں اصلاح نہيں ہوجاتی اس وقت تک نہ تواس کی ساکھ بہتر ہوگی اورنہ ہی اس کی قراردادوں کا کوئي اثر ہوگا جس کا اعتراف اسے لونڈی بناکر رکھنےوالے امریکہ برطانیہ اوریورپی یونین کے ارکان سبھی کررہے ہيں ۔
* نام:
ايميل:
* نظر: